موت کی تیاری ضروری کیوں؟


موت ایک ایسی حقیقت ہے جو ٹل نہیں سکتی لیکن یہ ممکن ہے آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہو کہ آپ اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ لیکن یہ اہم ہے کہ آپ اپنی موت سے متعلق کچھ منصوبہ بندی ضرور کر لیں۔

اگر آپ کے پاس کچھ بچت ہے یا آپ اچھی قسم کی جیولری کے مالک ہیں تو آپ زندگی میں فیصلہ کریں کہ آپ کی موت کی صورت آپ کے اثاثے کس کو ملیں۔ آپ کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آپ کے فیس بک تصاویر کا کیا بنےگا اور اپ کے بعد کون ان تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

جب آپ جوان ہوتے ہیں تو آپ کو وصیت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

'ڈائنگ میٹرز' نامی چیرٹی نے نیوز بیٹ کو بتایا کہ اگر آپ کے پاس کسی کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے پھر بھی آپ کو اپنے ڈیجٹل ورثے کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔

موت سے پہلے آپ کو کم از کم پانچ ضروری اقدام ضرور کرنے چاہیں تاکہ آپ کی موت کی صورت میں آپ کے عزیز و اقارب کے لیے زیادہ مشکلات پیدا نہ ہوں۔

وصیت ایک ایسی قانونی دستاویز ہوتی ہے جس میں آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی دولت، جائیداد اور دیگر اثاثے کس کو ملنے چاہیں۔ آپ اپنی وصیت خود بھی لکھ سکتے ہیں لیکن بہتر ہوگا کہ آپ وصیت کے لیے کسی سے مشاورت کر لیں۔ وصیت کو قانونی دستاویز بنانے کے لیے گواہوں کی موجودگی میں اس پر دستخط کرنے لازم ہوتاہے۔

ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ وکیل سے وصیت لکھوائیں۔ اس کے لیے آپ کو سو سے دوسو پونڈ فیس ادا کرنی پڑے گی لیکن اپنے وارثوں کو بہت سی پریشانی سے بچا سکتے ہیں۔

آپ وصیت لکھنے والے سروس کا استعمال کر کے کچھ رقم بچا سکتے ہیں۔ اگر آپ وصیت لکھے بغیر اس دنیا سے چل بسے تو پھر قانون فیصلہ کرے گا کہ آپ کے اثاثے کس کی ملکیت ہیں۔

مثلاً اگر آپ کی اولاد ہے تو آپ کے اثاثے خود بخود ان کو منتقل ہو جائیں گے یا پھر آپ کے والدین یا آپ کے پارٹنر کو منتقل ہو جائیں۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے جنازے میں لوگ خوبصورت لباس پہن کر شریک ہوں اور اپنے دفن کو 'ماحول دوست'بنانا چاہتے ہیں۔

ڈائینگ میٹرز نامی چیرٹی کا کہنا ہے آپ سب سے عقمندانہ اقدام یہ کر سکتے کہ آپ اپنی وفات سے پہلے اپنے کفن دفن کا انتظام کریں تاکہ آپ کے چاہنے والے آپ کی موت پر آپ کی زندگی کی خوشی منا سکیں نہ کہ آپ کی موت کی صورت میں وہ کفن دفن کا انتظام کرنے میں پریشانی کا سامنا کریں۔

آپ اپنی زندگی میں اپنی سالگرہ بنانے کے لیے بہت اہتمام کرتے ہیں لیکن اپنی موت کی پارٹی کا ایسا اہتمام کیوں نہیں کر سکتے۔

اپنے اعضا عطیہ کریں

آپ کی موت دوسرں کے لیے زندگی کا سبب بن سکتی ہے۔

اکیس سالہ ہینا ہزاروں ایسے لوگوں میں سے ایک ہیں جنھیں اعضا کا عطیہ چاہیے۔ ہینا نے گزشتہ برس نیوز بیٹ کو بتایا تھا کہ وہ دو سال سے دل کے عطیے کے انتظار میں ہیں۔

برطانیہ کی ایک اکائی ویلز میں اگر آپ اعضا کے عطیے کی وصیت کے بغیر وفات پاگئے تو یہ فرض کیا جائے گا کہ آپ کی موت پر آپ کےاعضا حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن برطانیہ کے دوسرے حصوں، انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ آپ کو اعضا کا عطیہ دینے کے لیے اپنی زندگی میں رجسٹر ہونا لازم ہوتا ہے۔

شوشل میڈیا اکاونٹس کا بھی سوچیں

کبھی آپ نے سوچا کہ آپ کی موت کی صورت میں آپ کے فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر اکاونٹ کا کیا بنے گا۔

مختلف سوشل میڈیا نیٹ ورک کا اپنے صارف کی موت سے متعلق مختلف پالیسی ہے۔

فیس بک کی پالیسی ہے کہ اپنےصارف کی موت کے بعد اس کا اکاونٹ ڈیجٹل فٹ پرنٹ سے ڈیجیٹل ورثہ میں بدل جاتا ہے۔

آپ اپنے فیس بک اکاونٹ میں اپنے ایک 'وارث' کا تعین کر سکتے ہیں جو آپ کی موت کی صورت میں آپ کی تصاویر اور ویڈیوز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

انسٹاگرام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صارف کے مرنے کی صورت میں اس کا انسٹاگرام اکاونٹ ختم کر دیتے ہیں۔ انسٹاگرام کسی دوسرے شخص کو اپنے صارف کے اکاونٹ کا پاس ورڈ مہیا نہیں کرتا۔

ٹوئٹر ایسے صارف کا اکاونٹ خود بخود ختم کر دیتا تھا جو چھ مہینے تک اس اکاونٹ کو استعمال نہ کرے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ٹوئٹر اکاونٹ چلتا رہے تو آپ کو چاہیے اپنے اکاونٹ کا پاس ورڈ اپنے کسی عزیز کو بتا دیں۔

Advertisement



loading...
loading...

ڈیلی نیوز پاکستان

ایک ایسی ویب سائٹ جہاں آپکو ہر اھم خبر بروقت ملے خبر سیاست سے متعلق ہو یا معیشت سے ملکی ہو یا غیر ملکی یا بین الاقوامی معیشت کے عنوان سے ہو یا معاشرت کے کھیل کی خبریں ہوں یا عوامی مسائل کی الجھنیں ہم آپکے سامنے پیش کرتے ہیں ہر ضروری اور غیر معمولی نیوز اپڈیٹس تجزیے تبصرے مکالمے مباحثے بلاگز مضامین مقالات بروقت برموقع برمحل
Top