حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کا مقام

حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کا مقام
حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کا مقام

ایک عورت اپنے ہاتھ میں لاٹھی لئے راستہ ڈھونڈ رہی تھی، وہ زمانہ کی مصیبتوں کی ماری ہوئی تھی، اس نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو جو لوگوں کے درمیان کھڑے تھے، روکا اور ایک طرف لے گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے قریب ہوئے، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور  اپنے کان اس کی طرف لگائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے کافی دیر تک اس کی نحیف آواز کی طرف کان لگائے رکھے اور اس وقت تک انصراف نہیں کیا جب تک کہ اس کی ضرورت کو پورا نہیں کر دیا۔ اس کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ  ان لوگوں کی طرف واپس آئے جو کافی دیر سے کھڑے ان کا انتظار کر رہے تھے

تو کسی آدمی نے  کہا : امیر المؤمنین ! آپ ؓ نے اس بڑھیا  خاطر   قریش کے آدمیوں کو روکے رکھا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کہ تیرا ناس ہو ! جانتے  بھی ہو کہ یہ بڑھیا کون تھی ؟  اس آدمی نے کہا  کہ میں نہیں جانتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ وہ خاتون  ہیں جن کا شکوہ اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمان کے اوپر سنا، یہ خولہ بنت ثعلبہ  رضی اللہ عنہا ہیں ۔ خدا کی قسم ! اگر وہ رات تک میرے پاس سے واپس نہ جاتیں تو میں بھی ان کی ضرورت پوری کرنے تک واپس نہ لوٹتا۔

Advertisement



loading...
loading...

Advertisement

Advertisement

ڈیلی نیوز پاکستان

ایک ایسی ویب سائٹ جہاں آپکو ہر اھم خبر بروقت ملے خبر سیاست سے متعلق ہو یا معیشت سے ملکی ہو یا غیر ملکی یا بین الاقوامی معیشت کے عنوان سے ہو یا معاشرت کے کھیل کی خبریں ہوں یا عوامی مسائل کی الجھنیں ہم آپکے سامنے پیش کرتے ہیں ہر ضروری اور غیر معمولی نیوز اپڈیٹس تجزیے تبصرے مکالمے مباحثے بلاگز مضامین مقالات بروقت برموقع برمحل
Top