اسلام

خوشی تو ہر کوئی سیلیبریٹ کرتا ہے لیکن آج کل ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو غم کا بھی جشن مناتے ہیں ۔
ﻣﺼﺮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﯿﺮ ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﺗﮭﺎ. ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﮓ ﺑﮭﮓ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ، ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﮨﺮﮦ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﻥ ﻧﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﯾﻮﺭﭖ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﺎ ، ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﭨﯿﺴﭧ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺻﺮﻑ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮨﻮ ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ
.: ریاض جانے کے لیےایک گھنٹہ پہلے گھر سے نکلا۔ لیکن راستے میں رش اور چیکنگ کی وجہ سے میں ائیرپورٹ لیٹ پہنچا۔جلدی سے گاڑی پارکنگ میں کھڑی کی، اور دوڑتے ہوئے کاﺅنٹرپر جا پہنچا۔ کاﺅنٹر پرموجودملازم سے میں نے کہا۔ مجھے ریاض جانا ہے، اس نے کہا ریاض والی فلائٹ تو بند ہو چکی ہے، میں نے کہا پلیز مجھے ضرور آج شام ریاض پہنچنا ہے۔ اُس نے کہا زیادہ باتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وقت آپکو کوئی بھی جانے نہیں دے گا۔میں نے کہا اللہ تمھارا حساب کردے۔اس نے کہا ا
موت ایک ایسی حقیقت ہے جو اٹل ہے لیکن یہ ممکن ہے آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہو کہ آپ اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ لیکن یہ اہم ہے کہ آپ اپنی موت سے متعلق کچھ منصوبہ بندی ضرور کر لیں۔
بارہ ربیع الاول کو نماز ظہر کے بعد بیس رکعت نفل نماز دو دو رکعت کرکے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد اکیس اکیس مرتبہ سورئہ اخلاص پڑھے۔ نماز پڑھنے کے بعد اس کا ثواب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ کے طور پر پیش کرے۔
اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسانوں کیلئے بے شمار نعمتیں عطا کیں، جن میں بہت سی ضروریات زندگی جن میں خوراک، پانی، پناہ گاہ اور خدا کی دیگر قدرتی تحفے شامل ہیں، غذا دنیا میں ہر انسان کیلئے ضروری ہے۔
ایک بار جب جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہو ں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
اچانک ایک شہسوار دوڑتا ہوا آیا اور بلند آواز سے عرض کرنے لگا : یا رسول اللہ ! ﷺ قریش مکہ نے بد عہدی کردی ، نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے لئے تیاری شروع فرما دی ۔ دوسری جانب حضرت حاطب ابن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے قریش کے نام ایک خط لکھا جس میں انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کی مکہ روانگی اور مکہ پر فوج کشی کی تیاریوں کے متعلق خبر کا ذکر کیا۔ حاطب رضی اللہ عنہ نے وہ خط ایک عورت کو دیا، اور
رسول اللہ ﷺ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد غمگین رہنے لگے تھے، چنانچہ حضرت عثمان بن مطعون کی اہلیہ محترمہ حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ: یا رسول اللہ ! آپ ﷺ دوسرا نکاح کر لیجئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کس سے کروں؟
حضرت عثمان عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے ہم ایک تجارتی قافلہ میں ملک شام کی حدود میں داخل ہو گئے تو وہاں ایک نجومی عورت ہمارے سامنے آئی
چاشت کا وقت تھا، آنحضرت ﷺ بیت اللہ کے پاس تشریف فرما تھے، آپ ﷺ کا ذہن مبارک ذکر و تسبیح سے معطر ہو رہا تھا کہ خدا کے دشمن ابو جہل کی آپ ﷺ پر نظر پڑی جو اپنے گھر سے نکل کر بیت اللہ کےارد گرد بے مقصد پھر رہا تھا، وہ بڑے فخر و تکبر کے انداز میں حضور پر نور ﷺ کے قریب آیا اور ازراہ مذاح کہنے لگا : اے محمد ﷺ ! کیا کوئی نئی بات پیش آئی ہے؟
ایک عورت اپنے ہاتھ میں لاٹھی لئے راستہ ڈھونڈ رہی تھی، وہ زمانہ کی مصیبتوں کی ماری ہوئی تھی، اس نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو جو لوگوں کے درمیان کھڑے تھے، روکا اور ایک طرف لے گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے قریب ہوئے، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اپنے کان اس کی طرف لگائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کافی دیر تک اس کی نحیف آواز کی طرف کان لگائے رکھے اور اس وقت تک انصراف نہیں کیا جب تک کہ اس کی ضرورت کو پورا نہیں کر دیا
*کیا آپکو معلوم ہے کہ قرآن مجید میں وہ کون سی آرزوئیں ہیں جو ناممکن ہیں؟*
مزید خبریں

ڈیلی نیوز پاکستان

ایک ایسی ویب سائٹ جہاں آپکو ہر اھم خبر بروقت ملے خبر سیاست سے متعلق ہو یا معیشت سے ملکی ہو یا غیر ملکی یا بین الاقوامی معیشت کے عنوان سے ہو یا معاشرت کے کھیل کی خبریں ہوں یا عوامی مسائل کی الجھنیں ہم آپکے سامنے پیش کرتے ہیں ہر ضروری اور غیر معمولی نیوز اپڈیٹس تجزیے تبصرے مکالمے مباحثے بلاگز مضامین مقالات بروقت برموقع برمحل
Top