بچوں میں اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی ، والدین کا فرض ہے کہ انہیں اس چیز سے آشنا کریں


لاہور (روزنامہ دنیا ) گو بچے کی تعلیم و تربیت کے معاملے میں ہم کو اس کی فطری خواہشات کا خیال رکھنا پڑتا ہے لیکن خود بچے، اس کے خاندان اور ملت اسلامیہ کا مفاد اس امر کا متقاضی ہے کہ اس مفاد کو اس کی خواہشات پر مقدم سمجھا جائے اور اس کی تربیت ایسے طریقے سے کی جائے کہ جو اس کی فطرت کے مطابق ہو۔ وہ تعلیم و تربیت کے بار کو مطلق محسوس نہ کرے اور ا س کی فطری زندہ دلی اور شگفتہ مزاجی میں ذرا فرق نہ آئے۔ چونکہ بچے میں اچھی چیز کو اچھا سمجھنے اور بری چیز کو برا سمجھنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی اس لیے یہ والدین اور خاص کر ماں کا فرض ہے کہ وہ اسے اچھے اور برے میں تمیز کرنے کا سبق دے۔
مثلاً وہ کیچڑ میں کھیلنا چاہتا ہے، اس کو یہ معلوم نہیں کہ کیچڑ میں کھیلنے سے اس کا جسم ناپاک ہو جائے گا اور اس کے کپڑے خراب ہو جائیں گے مگر ماں اس کو خشک مٹی ریت اور رنگین چیزیں کھیلنے کے لیے دے سکتی ہے۔ اس طریقے سے بچہ صاف چیزوں سے کھیلنے کی طرف مائل ہو جائے گا۔ بچہ بڑی دیر سے سیکھتا ہے۔ مناسب یہی ہے کہ اسے صرف اتنا ہی سکھایا جائے۔ جتنی اس میں صلاحیت ہو۔ جبر سے کام نہ لیا جائے۔ ہمیں بچے سے اس کی قابلیت اور عمر کے اعتبار سے توقعات قائم رکھنی چاہئیں۔ اگر بچے کی ذہنی قابلیت اور سرگرمی کے مقابلے میں ہماری توقعات زیادہ ہوں گی تو وہ ہمت ہار جائے گا اور اگر اس معاملے میں اس کے جذبات کاخیال نہ رکھا گیا تو وہ خوش نہیں رہے گا۔ عمر کے بڑھنے کے ساتھ بچہ صرف اسی صورت میں حقیقی خوشی محسوس کر سکتا ہے۔
جب ہر کام میں جو وہ کرتا ہے، خواہ وہ کیسا ہی حقیر ہو والدین کی طرف سے اس کی پوری حوصلہ افزائی کی جائے۔ عام طور پر والدین اپنے اس بچے سے زیادہ پیار کرتے ہیں جو دوران تعلیم میں اچھے نمبر لیتا ہے۔ گھر میںاس کا وجود مفید سمجھا جاتا ہے عادات و اطوار کے لحاظ سے بھی وہ شائستہ ہے اور والدین کا کہا ماننے کے لیے تیار رہتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس امر کی توقع رکھتا ہے کہ اس کے والدین اس سے صرف اس لیے محبت کریں کہ وہ ان کا بچہ ہے اور والدین اس کی شخصیت کی قدر کریں۔ یہ بچے سے والدین کی فطری محبت ہی کا نتیجہ ہے کہ وہ جب ذرا بڑا ہو جاتا ہے اور تعلیم وتربیت کے قابل سمجھا جاتا ہے تو والدین اس کی ضروریات اور خواہشات کا خیال رکھتے ہیں اور اپنی مقدرات کے مطابق ان ضروریات اور خواہشات سے متعلق ذمہ داریوں سے، بشرطیکہ وہ جسمانی صحت کے اعتبار سے معقول ہوں، سبکدوش ہونا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ایسا بچہ صحیح معنوں میں کنبے کا ممبر سمجھا جاتا ہے۔ پھر ممبر بھی ایسا جس کی ابتدائی تعلیم و تربیت پر کنبے کی نیک نامی کا انحصار ہے۔  

 

Advertisement



loading...
loading...

ڈیلی نیوز پاکستان

ایک ایسی ویب سائٹ جہاں آپکو ہر اھم خبر بروقت ملے خبر سیاست سے متعلق ہو یا معیشت سے ملکی ہو یا غیر ملکی یا بین الاقوامی معیشت کے عنوان سے ہو یا معاشرت کے کھیل کی خبریں ہوں یا عوامی مسائل کی الجھنیں ہم آپکے سامنے پیش کرتے ہیں ہر ضروری اور غیر معمولی نیوز اپڈیٹس تجزیے تبصرے مکالمے مباحثے بلاگز مضامین مقالات بروقت برموقع برمحل
Top